یوکرین: آندرے شیوشنکو فٹ بال سے رخصت، سیاست میں داخل

28 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک تین ماہ قبل 28 جولائی کو یوکرین کے فٹ بال اسٹار آندرے شیوشنکو نے اعلان کر دیا کہ وہ کھیل سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاست کے میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔

شیوشنکو کے کئی پرستار مایوس ہوئے، کہ انہوں نے واضح و مکمل بات کیوں نہیں کی۔ اعتراض سیاست دان بننے کے ان کے فیصلے پر نہیں تھا: کیونکہ بالآخر معروف شخصیات میں سیاسی قوتوں میں شامل ہونا اور دیگر طریقوں سے سیاست کا حصہ بننا تو اب عام ہے، وہ بھی ایسے مقاصد کے لیے جسے یوکرین کے بہت کم لوگ غرض رکھتے ہیں۔ لیکن شیوشنکو کے معاملے میں مسئلہ یہ جاننا تھا کہ وہ آنے والے انتخاب میں کس جماعت کی نمائندگی کریں گے۔

عظیم یوکرینی فٹ بال کھلاڑی آندرے شیوشنکو "یوکرین - فارورڈ!" پارٹی کانگریس کے موقع پر۔ تصویر از سرگئی خارچنکو، کاپی رائٹ ڈیموٹکس (2 اگست، 2012ء)

عظیم یوکرینی فٹ بال کھلاڑی آندرے شیوشنکو “یوکرین – فارورڈ!” پارٹی کانگریس کے موقع پر۔ تصویر از سرگئی خارچنکو، کاپی رائٹ ڈیموٹکس (2 اگست، 2012ء)

انہوں نے براہ راست یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ کون سی جماعت میں شامل ہو رہے تھے، البتہ ان کے شائقین، ممکنہ ووٹ دینے والے حتیٰ کہ چند یوکرینی سیاست دانوں نے بھی اگلے 24 گھنٹوں سے زیادہ وقت ان قیاس و گمان میں گزارا کہ شیوشنکو کس جماعت کا انتخاب کریں گے۔

فیس بک پر ایک پول [ru] کیا گیا تاکہ شیوشنکو کی متوقع سیاسی ترجیحات کے حوالے سے انٹرنیٹ کی دنیا کے باسیوں کی توقعات کا تعین کیا جا سکے۔ ووٹ میں گو کہ زیادہ افراد نے حصہ نہیں لیا، لیکن ان کی پیش گوئیاں عوامی سطح پر پھیلے اس تذبذب کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھیں جو فٹ بال کے اسٹار کھلاڑی کے اعلان نے پیدا کیا تھا۔ جواب دینے والوں کی اکثریت (250 ووٹوں) نے سمجھا کہ حکمران جماعت پارٹی آف ریجنز اس انتہائی قابل احترام کھلاڑی کا ممکنہ انتخاب ہوگی؛ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن وتالی کلشکو کی اودار پارٹی (“اسٹرائیک”) دوسرے نمبر پر آئی، 177 ووٹوں کے ساتھ؛ 40 افراد نے شیوشنکو کو نتالیا کورولیوسکا کی یوکرینیا-وپیرید! پارٹی (“یوکرین – فارورڈ!”) کا حصہ دیکھا، جسے مارچ 2012ء میں یولیا تائموشنکو کے اتحاد (BYuT) سے نکال دیا گیا تھا؛ اور صرف 17 فیصد نے توقع ظاہر کی کہ شیوشنکو متحدہ حزب اختلاف میں شمولیت اختیار کریں گے، جس میں اس وقت تائموشنکو کی بتکشچینا پارٹی (“فادرلینڈ”) کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی قوتیں (جیسا کہ ارسنی یاتسینیوک، اناتولی ہرتسنکو اور ویاچیسلاف کیریلنکو) بھی شامل ہیں۔

ٹوئٹر پر رکن پارلیمان آندرے شیوشنکو (@ashevch; BYuT) نے اپنے معروف ہم نام کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا [uk]:

سیاست میں جتنے زیادہ شیوشنکوز آئیں، بہتر ہے 🙂 […]

پھر انہوں نے اپنی پیش گوئی [uk] کی – اور بعد ازاں فٹ بال کے عظیم کھلاڑی کو ماضی کی سیاسی وابستگی کے بارے میں ایک محتاط یاددہانی بھی کی:

شیوشنکو [وتالی] کلشکو میں شمولیت اختیار کریں گے۔ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ کہ وہ [صدر وکٹر یانکووچ] کے لیے مہم نہ چلائیں، جیسا کہ انہوں نے 2004ء میں کیا 🙂 میں اپنے ہم نام کو بہت پسند کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ خود کو سمجھے۔

شیوشنکو رکن پارلیمان شیوشنکو فٹ بال کھلاڑی کی پسند کے بارے میں غلط ثابت ہوئے، اور ان کی طرح اور کئی لوگ بھی۔ نتالیہ کورولیوسکا کی “یوکرین – فارورڈ!” فاتح ثابت ہوئی۔

شیوشنکو فٹ بال کھلاڑی کی طرح کورولیوسکا نے 2004ء کے صدارتی انتخابات میں وکٹر یوش چنکو پر یانوکووچ کو ترجیح دی، جو یوکرین میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سبب بنا، جو نارنجی انقلاب کے نام سے معروف ہوئے۔ لیکن جب 2005ء میں شیوشنکو یوش چنکو کے مشیر مقرر ہوئے تھے، تو کورولیوسکا BYuT کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئیں، پہلے 2006ء میں اور پھر 2007ء میں ایک بار پھر۔ یہ اتحاد مارچ 2012ء میں خاتمے کو پہنچا، جب کورولیوسکا BYuT سے نکال دی گئیں۔

(قابل ذکر بات، کورولیوسکا کے بھائی قسطنطین کورولیوسکی [ru]، جو 2010ء میں اپنے پیشرو ماسکو کے میئر یوری لوزکوف، کے استعفے کے بعد شہر ماسکو کے شعبہ شہری تعمیراتی پالیسی، ترقیات اور تعمیر نو کے پہلے نائب سربراہ مقرر ہوئے، ولادیمیر پیوتن کی حکومت میں علاقائی ترقی کے نائب وزیر بنے۔)

اپنی موجودہ نئی صورت میں کئی ماہرین کورولیوسکا کو ایک آزاد کھلاڑی کی حیثیت سے نہیں دیکھتے، بلکہ انہیں حکمرانوں کے سیاسی “منصوبے” کا حصہ سمجھتے ہیں – ایک طرح کا جال جو حزب اختلاف کے ووٹروں کو بڑی تعداد میں کھینچنے کے لیے بچھایا گیا۔

اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ شیوشنکو کے کئی مقامی پرستاروں نے ان کے کورولیوسکا کی پارٹی میں اہم حیثیت اختیار کرنے پر تلخی محسوس کی ہے۔

ایف سی ڈائنامو کیف کے فین پورٹل پر شیوشنکو کے کورولیوسکا کے ساتھ اتحاد کی خبر [ru] نے 800 سے زائد تبصرے سمیٹے۔ مندرجہ ذیل ان میں سے ایک ہے جسے صارف DK300نے کیا:

یہ جماعت [یوکرین –فارورڈ!] سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً تکنیکی جماعت ہے۔ یہ مخصوص انتخابات کے لیے ایک مخصوص ہدف کے ساتھ تخلیق کی گئی۔ اس کے لیے رقم مختص کی گئی، اور یہ رقم ان سرفہرست [5 سے 20امیدواروں] میں تقسیم کی جائے گی۔ اس کا کوئی مستقبل نہیں، نہ قومی سطح پر، حتیٰ کہ دیہی سطح پر بھی نہیں، اور اس میں شمولیت کرنے والے ہر فرد کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔[…]

صارف فرینکسٹائن نے اپنے بلاگ پر شیوشنکو کی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا[ru]:

ذاتی طور پر، مجھے اس میں کوئی حیران کن بات نظر نہیں آتی کہ آندرے شیوشنکو نے کورولیوسکا کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ پیشہ ورانہ فٹ بال کے معیارات کے مطابق، جس میں شیوشنکو نے اپنی پوری زندگی [صرف] کی ہے، وہ صرف دوسرے کلب میں منتقل ہوئے ہیں جس نے انہیں بہتر معاہدہ دیا ہے، اتنی سی بات ہے۔ میرے اندازے میں [ایف سی بارسلونا] سے [ریال میڈرڈ سی ایف] میں منتقل ہونا زیادہ موزوں ہوتا۔

جو بات مجھے عیب لگی کہ […] ہمارے ملک میں ایسا لگتا ہے کہ شیوشنکو چند وجوہات کی بنیاد پر کوئی اخلاقی ساکھ کا حامل شخص ہے، کہ ہر شخص ایک مشکوک سیاسی قوت کے ساتھ ان کی اچانک دوستی پر انتہائی مضطرب و پریشان ہوگیا۔

معذرت کے ساتھ، کیوں؟ ایک فٹ بال کھلاڑی کی حیثیت ایک کھلاڑی سے زیادہ کچھ نہیں – بلاشبہ ایک سماجی رہنما بھی نہیں۔ ایک معمولی بوسیدہ جماعت کو صرف اس لیے ووٹ دینا کہ فٹ بال کا ایک شاندار کھلاڑی اب ان کی طرف سے کھیلتا ہے – ہر گز معقول نہیں کیونکہ، ایک امر تو طے ہے کہ پارلیمان فٹ بال کا میدان نہیں اور نہ ہی شیوشنکو کبھی [فنرباخچے ایس کے بمقابلہ اے سی میلان ، 2005ء کی اپنی ایک میچ میں چار گولوں کی کارکردگی دہرا پائیں گے]۔

تبصروں کے حصے میں ولادیمیر پیریوزنک نے لکھا [ru]:

[…] شیوشنکو [ریاستہائے متحدہ امریکہ] جا سکتے تھے، ایک ملک جہاں وہ سکون کی زندگی گزارتے۔ وہ ایک مہینے میں لاکھوں [امریکی ڈالرز] کمالیتے۔ لیکن انہوں نے سیاست کا انتخاب کیا […]۔ جس کا مطلب ہے کہ رکن پارلیمان بننا ایک سرفہرست فٹ بال کھلاڑی بننے سے زیادہ نفع بخش ہے۔ اتنی سی بات ہے۔

کورولیوسکا کے باضابطہ فیس بک صفحے (19120 ‘لائیکس’) پر شیوشنکو کے “حصول” کا اعلان اس کیپشن کے ساتھ ایک تصویری پوسٹ کے ذریعے کیا گیا [ru]:

آندرے شیوشنکو ہماری ٹیم کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سیاست دانوں کی نئی نسل کی ٹیم!

ردعمل مختلف تھا؛ درج ذیل مختصر منتخب جملے ہیں۔

یوروی دیدک [uk]:

صرف وہ شخص جو یوکرین کا شہری ہو اور گزشتہ پانچ سال سے یوکرین میں مقیم ہو [رکن پارلیمان] بن سکتا ہے۔ شیوشنکو [یوکرین میں] صرف چند سال رہے ہیں۔[…]

وکٹر یان چنکو [uk]:

بالآخر آندرے نے اپنی ٹیم تلاش کر ہی لی اور 5 سال کے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کر دیے!!!

واسل سوکیرکو [uk]:

کھیل اور سیاست کو کبھی نہیں ملانا چاہیے! عظیم کھلاڑیوں کو شامل کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ بدعنوان، پرانی، غیر موثر سیاسی کٹھ پتلیوں کو فٹ بال کے عظیم کھلاڑیوں کے پیچھے نہیں چھپانا چاہیے – اور عوام کی برین واشنگ نہیں کرنی چاہیے![…]

والیری دیادیورا [ru]:

جس شخص کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہے، اسے خریدنا اتنا آسان ہے

پیٹر گلات[ru]:

فٹ بال میں تو صرف تنخواہ ہے، اصلی پیسہ تو سیاست میں ہے۔

بورس لیوکن [ru]:

میں یہ مانتا ہوں کہ اک بہتر مستقبل کے لیے تبدیلیاں ممکن ہیں ۔۔ شیوشنکو، جو یوکرینی باشندوں کے لیے ایک جدید مثال ہیں، جیسے لوگوں نے نئے اور مہذب سیاست دانوں کے ظہور کی امید دی ہے ۔۔ بہر صورت، عظیم لوگ ضروری نہیں کہ ہر کام عظیم کریں، لیکن شیوشنکو ہمیشہ ملک کے لیے فخر کی علامت رہیں گے!

شیوشنکو کے پرستار فیس بک صفحے (32353 ‘لائیکس’) نے فٹ بال کھلاڑی کے کیریئر کے اختتام کا اعلان بہت ہی مختصر تھا:

کھیل ختم 🙁

یہاں بھی ردعمل مختلف تھا۔

ٹم ٹربلڈ ہینم [en]:

دوست تم نے شاندار کھیلا، سیاسی کیریئر کے لیے نیک تمنائیں 🙂 اگر تم ناروے میں سیاست دان بنتے تو میں تمہیں ووٹ دیتا 😀

تارس کے اولیک سک [en]:

ایک عظیم کھلاڑی سے برے سیاست دان تک؟ شیوا، تمہارے پاس کافی پیسہ تھا کہ تم سیاست کے کاروبار سے دور رہتے، حقیقی منصوبوں میں مت الجھو، صاف کھیل سے جڑے رہو، براہ مہربانی

مشال فریبا [en]:

ہر گول کے لیے شکریہ، نیک تمنائیں، تم ایک بہت ایماندار شخص ہو، اپنے ملک کے لیے بہت کچھ اچھا کر سکتے ہو۔۔۔!!!!

ٹوئٹر پر الیگزیندر سویتسوف (@10Sascha) نے ایف سی ڈائناموکیف کے موجودہ کوچ یوری سیمن کو یہ لکھا[ru]:

مجھے بتائیے، کہ کیا آپ [شیوشنکو] کی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ پر ناخوش ہیں؟

اور سیمن (@Yuri_Semin) نے جواب دیا [ru]:

بلاشبہ، مجھے اس کا افسوس ہے، کیونکہ شیوشنکو اب بھی ایک بہترین فٹ بال کھلاڑی ہے۔ لیکن یہ اس کی پسند تھی، اور میں اس کی راہ میں نہیں آنا چاہتا تھا۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.